ی ریاست ہو گی ماں کے جیسی
ریاست ہوگی ماں کے جیسی
اکثر یہ الفاظ ہمیں سیاسی نعروں محب الوطنی کا جذبہ ابھارنے کے لئے اور بہت سے فلاسفروں سے سننے کو ملتے ہیں کہ ریاست ہوگی ماں کے جیسی ہر شہری سے پیار کرے گی ۔
پر یہ الفاظ ان ماؤں کے دلوں پر تیر بن کر لگتے ہیں جنکے جگر کے ٹکرے ریاست کے یا ریاست سے منسلک کچھ دلوں کی غلط پولیسیوں کی وجہ سے زندگی کی بازی ہار گئے ۔
دنیا کے تمام ممالک میں مہزب قوموں کے نمائندے جب کوئی ناگهانی حالات ہوتے ہیں یا کوئی حادثہ پیش آتا ہے تو اس حادثے پر سوچ بچار کرتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ یہ حادثہ کے پیش آیا اور ان حادثات کو روکا کیسے جا سکتا ہے ۔سوچ بچار کرنے کے بعد اسمبلی میں بیٹھ کر اس پر قانون سازی کرتے ہیں تاکہ آیندہ مزید ایسے حادثات سے بچا جا سکے ۔اس لئے کیوں کہ یہ خود کو قوم کا نوکر اور قوم کا نمائندہ سمجتے ہیں خود کو حاکم نہیں سمجتے۔
پر میرا ملک خداداد ایسا ملک ہر جس میں کوئی انفرادی حادثاتی موت ہو جائے تو اسکے بارے میں سوچنے والا اسکے بارے میں قانون سازی کرنے والا اور حادثے کی وجہ جاننے والا کوئی عوامی نمائندہ نہیں آتا کوئی آتا ہے تو صرف سیاسی افسوس کے لئے یہ کوئی نہیں سوچتا کے ان حادثہ کو روکا کیسے جائے ۔
تحصیل نوشہرہ ورکا ں کے نواحی گاؤں ببر میں گزشتہ 8 سال میں صرف بجلی کی لٹکتی ہوئی واٹ 11000 کی تاروں سے 8 افراد ان خطرناک تاروں سے لٹک کر حادثات کا شکار ہو کر زندگی کی بازی ہار چکے ہیں ۔علاقہ مکینوں کی دیواروں کے ساتھ لٹکتی ہوئی یہ خطرناک تاریں کسی بھی وقت مزید حادثہ کا سبب بن سکتی ہیں۔
پر مجال ہے کسی عوامی نمائندے کی جو اس طرف توجہ بھی دے کے کے انکو کرپشن اور کاروبار سے ٹائم ملے تو یہ عوامی مسائل پر سوچیں ۔
چند روز قبل میرا بچپن کا دوست 22 سال کا کڑیل نوجوان نعمان سید ان ہی تاروں سے لٹک کر زندگی کی بازی ہار گیا ۔اب اس نوجوان کی ماں یہ الفاظ کیسے کہ سکتی ہے کہ ریاست ہوگی ماں کے جیسی جو ہر شہری سے پیار کرے گی ۔
تقریبن دنیا کے زیادہ تر ممالک میں بجلی کی تاروں کو زمین دوز کر دیا گیا ہے کیوں کے وہاں کے عوامی نمائندہ اپنی عوام کی حفاظت کا سوچتے ہیں پر ہمارے کسی عوامی نمائندے خواہ وہ رکن قومی اسمبلی ہو یا صوبائی اسمبلی ہو کسی نے نا تو اس پر توجہ دی اور نا اس حوالے سے اسمبلی میں کوئی قرارداد پیش کی پھر میں کیسے کہ دوں ریاست ماں کے جیسی ہے ہر شہری سے پیار کرتی ہے
Comments
Post a Comment